Thursday, 16 February 2017

حج کوٹے کی تقسیم پر وزارت مذہبی امور اور کمپنیوں میں اختلافات

فارمولا طے نہ ہوسکا، حج پالیسی تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے، بااثر کمپنیاں 50 فیصد کوٹے کی طلب گار۔ فوٹو: فائلراچی: 
وزارت مذہبی امور اور حج کمپنیوں کے درمیان حج کوٹے کی تقسیم کے سلسلے میں فارمولا طے نہ ہوسکا، حج پالیسی تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے، نئی وپرانی کمپنیوں میں حج کوٹے کی تقسیم کے حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حج کوٹے کی تقسیم کے سلسلے میں وزارت مذہبی امور اور حج کمپنیوں کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں اورحج کوٹے کی تقسیم کے سلسلے میںکوئی فارمالا طے نہیں پاسکا ہے
دوسری جانب بااثرحج کمپنیوں کا موقف ہے کہ پاکستان کے کل حج کوٹے کا50 فیصد انھیں دیا جائے اور نئی کمپنیوں کو کوٹا نہیں دیا جائے جبکہ نئی اینرولڈ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے گزشتہ سال سستا حج پیکیج پیش کیا تھا لیکن اس کے باوجود انھیں کوٹے سے محروم رکھا گیا جبکہ عازمین حج کو سستا حج کرانے کیلیے وزارت مذہبی امورکو ان کی خدمات حاصل کرنا چاہیے تھی اور انھیں کوٹا دینا چاہیے تھا۔

مردم شماری کی اہمیت اور پاکستان!

مردم شماری کے نتائج کے بعد حکومتیں اپنے آئندہ کے تمام لائحہ عمل مرتب کرتی ہیں، جس میں ترقیاتی کاموں سے لے کر انسانی بہتری کیلئے منصوبوں کو حتمی شکل دینا شامل ہوتا ہے۔رض کریں آپ لندن کے کسی علاقہ میں مکان کرایہ پر لینا چاہتے ہوں یا خرید رہے ہیں تو آپ پر لازم ہے کہ جلد از جلد مقامی کونسل کو اطلاع دے کر اپنا اور دیگر اہلِ خانہ کا اندراج کروائیں، اسی طرح پراپرٹی ڈیلر یا ایجنٹ پر بھی یہ ذمہ داری ریاست کی طرف سے عائد کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی فرد، کمپنی کو مکان، دکان، دفتر یا کسی بھی قسم کی جائیداد کی لین دین کے لیے کہ مقامی کونسل آفس کو ایک مخصوص وقت کے اندر اندر جائیداد لینے والے کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کرے۔
اب ہم آتے ہیں ترقی پزیر ممالک یا تیسری دنیا سے وابستہ ممالک کی طرف۔ بد قسمتی سے پاکستان میں جمہوریت کا تسلسل نہیں رہا اور ماضی میں ہر چند سال بعد عزیز ہم وطنوں کی آواز کے زریعے اقتدار پر غیر جمہوری قوتیں قابض ہوگئیں۔ اب اللہ کا شکر ہے ایک دہائی سے لنگڑی لولی کرپشن زدہ ہی سہی لیکن وطن عزیز جمہوریت کی طرف رواں دواں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لگ بھگ 19 سال بعد  15 مارچ سے پاکستان بھر میں مردم شماری کا آغاز ہورہا ہے۔ یاد رہے یہ مردم شماری بھی سپریم کورٹ کے حکم پر کی جارہی ہے لیکن اِس پر ہم یہاں بحث نہیں کریں گے یہ معاملہ آئندہ کیلئے محفوظ رکھتے ہیں۔
مردم شماری کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے انتہائی اہمیت کی حامل عمل ہوتی ہے۔ مردم شماری کے نتائج کے بعد حکومتیں اپنے آئندہ کے تمام لائحہ عمل مرتب کرتی ہیں، جس میں ترقیاتی کاموں سے لے کر انسانی بہتری کیلئے منصوبوں کو حتمی شکل دینا شامل ہوتا ہے۔ ماضی کی مردم شماری کے نتائج ہمیشہ مشکوک رہے، شہری علاقوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی قائدین شہری آبادی کو کم ظاہر کرنے کی شکایت کرتے نظر آئے اور یہی وجہ ہے کہ مردم شماری کے اعلان کے ساتھ ہی شہری اور دیہی سیاسی قیادتیں آستینیں چڑھائے ایک دوسرے کے خلاف صف آراء نظر آرہی ہیں۔
مارچ 2017ء کی مردم شماری اس لحاظ سے بہت اہمیت کی حامل ہے کہ  یہ پاک چائنا راہداری منصوبے کے شاندار آغاز کے فوراً بعد ہورہی ہے اور ہر عام و خاص کے ذہن میں یہ بات رچ بس گئی ہے کہ بس چند سالوں کے بعد وطنِ عزیز میں دودھ اور شہد کی نہریں بہیں گیں۔ گاؤں میں رہنے والے افراد کی زندگی شہری زندگی کے معیار کے مطابق ہوجائے گی۔ شہری آبادی کا خیال ہے کہ اسپتالوں، اسکولوں کالجوں کا جال بِچھ جائے گا۔ سڑکیں پُل وغیرہ تعمیر ہوں گے، بجلی کے نظام میں بہتری ہوگی اور مستقبل قریب میں لوڈشیڈنگ خاتمہ ہوگا وغیرہ وغیرہ۔
یہاں یہ بات قابلِ ستائش ہے کہ حکمران اس مرتبہ مردم شماری کے حوالہ سے کچھ سنجیدہ اور مُخلص نظر آتے ہیں۔ پاک فوج کے سربراہ نے بھی مردم شماری کو صاف اور شفاف بنانے کیلئے دو لاکھ فوجی جوانوں کی تعیناتی کیلئے احکامات جاری کردئیے ہیں، دوسری طرف مردم شماری اسٹاف کی تربیت کیلئے سول انتظامیہ متحرک ہوگئی ہے۔ اب تک حکومت کی سنجیدگی اور مُخلصی کے دعوے تو بہت ہیں لیکن اصل صورتحال 15 مارچ کے بعد واضح ہوگی کہ حکومتی اقدامات پر عوام کتنے مطمئن ہوئے۔
بہرحال یہ ایک اچھا موقع ہاتھ آیا ہے، پاکستان کے شہری اور دیہی علاقوں میں آباد تمام زبان بولنے والے افراد حب الوطنی کے جذبہ سے سرشار ہوکر مردم شماری میں بھرپور حصہ لیں۔ سیاسی و سماجی تنظیمیں اپنے اپنے علاقے میں مردم شماری کے عمل پر نظر رکھیں، جہاں جہاں سرکاری عملہ کوتاہی برتے وہاں وہاں فوراً نشاندہی کی جائے۔ اِس سلسلے میں این جی اوز کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے اور تمام ممکنہ وسائل کی فراہمی میں معاونت کرنی چاہئیے۔
ہم یہاں حکومتِ وقت سے بھی درخواست کریں گے کہ 15 فروری کے بعد سے باقاعدہ نیشنل میڈیا کے ذریعے آگاہی مہم شروع کی جائے تاکہ شہری اور دیہی علاقوں میں رہنے والے عوام شہری بھرپور طریقہ سے مردم شماری کے عمل میں شریک ہو۔
یہاں ایک تجویز اور بھی دینا ضروری ہے ملکی اور بین الاقوامی حالات، سرحدی کشیدگی کے تناظر میں صدارتی آرڈینینس کے زریعے مردم شماری کے عمل میں رخنہ یا کسی قسم کی رکاوٹ ڈالنے والے ناپسندیدہ عناصر کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مردم شماری میں حائل ہونے والی رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے۔ یاد رکھیں مردم شماری میں حصہ لینا ایک قومی ذمہ داری ہے اِسی میں ہماری ترقی و خوشحالی کا راز پنہاں ہے.

پی ایس ایل پر پولیس سرپرستی میں اربوں روپے جوئے کا انکشاف

ڈیفنس، کلفٹن، بہادرآباد، کھارادر، عزیزآباد، گھاس منڈی، لیاری، گلشن، بلوچ کالونی میں اڈے قائم۔ فوٹو؛ فائل 
دبئی میں کھیلی جانے والی پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) پر کراچی کے مختلف علاقوں میں مبینہ طور پر پولیس کی سرپرستی میں اربوں روپے کا جوا کھیلے جانے کا انکشاف ہوا۔
دبئی میں کھیلے جانے والی پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے کرکٹ میچ پرکراچی کی بکیز نے جوئے پر اربوں روپے لگادیے ہیں۔ اس حوالے سے ڈیفنس کے ایک بکی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کراچی کے 3 بڑے بکیوں میں عادل پرنس،غلام میمن عرف جی ایم اور فیصل بافیلا شہر میں موجود ہیں جبکہ لاہور سے تعلق رکھنے والا بکی یوسف جوکہ دبئی میں موجود ہے اور اس کے دیگر کارندے جاوید، سلیم، اسحٰق اور جمشید سمیت دیگر بکیز لاہور میں کرکٹ میچ پر وا چلا رہے ہیں۔
اس کے علاوہ کراچی کی بکیزعادل پرنس، غلام میمن عرف جی ایم اورفیصل فافیلا کے کارندے ڈیفنس، کلفٹن، بہادرآباد، کھارادر، عزیز آباد، گھاس منڈی، لیاری، گلشن اقبال اور بلوچ کالونی میں جوئے کے اڈے چلا رہے ہیں جہاں پر مختلف کھیلوں پر جوا کھیلا جاتاہے تاہم اس وقت دبئی میں جاری پی ایس ایل پرجوا کھیلنے والے افراد ان کے اڈوں پرآکر جوا کھیلتے ہیں جہاں پر ایل سی ڈیز، کمپیوٹرز اورفون سمیت کھانے پینے کی سہولتیں موجود ہیں۔اس کے علاوہ جواریوں کی جانب سے موبائل فون، واٹس ایپ اور وائبر سے بھی رابطہ کر کے جوا کھیلاجاتاہے

پاک فضائیہ کے بیڑے میں مزید جے ایف 17 تھنڈر طیارے شامل

جدید بلاک ٹو جے ایف 17 تھنڈر طیارے پاکستان ایئر فورس بیس منہاس کے فورٹین اسکواڈرن میں شامل کئے جائیں گے۔ فوٹو: فائل 
پاک فضائیہ کے بیٹرے میں جدید آلات سے آراستہ مزید جے ایف 17 تھنڈر بلاک 2 لڑاکا طیارے شامل کرلیے گئے ہیں۔
اجدید جے ایف 17 تھنڈر طیارے بلاک ٹو پاک فضائیہ کے بیڑے میں شامل کرنے کے حوالے سے کامرہ ائیربیس پر ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں سربراہ پاک فضائیہ ائیرچیف مارشل سہیل امان اور وزیر دفاع خواجہ آصف بھی شریک ہوئے۔ جدید بلاک ٹو جے ایف 17 تھنڈر طیارے پاکستان ایئرفورس بیس منہاس کے 14ویں اسکواڈرن میں شامل کئے جائیں گے۔
اس موقع پر پاک فضائیہ کے طیاروں نے تقریب کے مہمان خصوصی وزیردفاع خواجہ آصف کو جہازوں سے سلامی پیش بھی کی جبکہ طیاروں نے فلائنگ پاسٹ کا بھی مظاہرہ کیا۔

شہریار خان اور نجم سیٹھی کیخلاف دائر درخواست پر پی سی بی سے جواب طلب

پی ایس ایل میں میچ فکسنگ کے ذمہ دار نجم سیٹھی اور چئیرمین پی سی بی شہریار خان ہیں، وکیل سرفراز نواز۔ فوٹو: فائلاسلام آباد: 
ہائی کورٹ نے چئیرمین پی سی بی اور نجم سیٹھی کے خلاف دائر درخواست پر پاکستان کرکٹ بورڈ سے 10 روز میں جواب طلب کر لیا۔
اسلام آباد ہائی کے چیف جسٹس جسٹس انور خان کاسی نے سابق ٹیسٹ کرکٹر سرفراز نواز کی جانب سے نجم سیٹھی اور چئیرمین پی سی بی کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کی، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ پی ایس ایل میں میچ فکسنگ کے ذمہ دار نجم سیٹھی اور چئیرمین پی سی بی شہریار خان ہیں جبکہ درخواست میں سرفراز نواز کی پینشن کو بھی حصہ بنایا گیا ہے۔

پاکستانی نژاد امریکی خاتون ناسا میں انتہائی اہم عہدے پر تعینات

حِبا رحمانی پاکستان میں پیدا ہوئیں اور اب وہ جدید ترین راکٹ اور خلائی پروازوں کی ابتدائی جانچ میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ فوٹو: بشکریہ ناسا کینڈی اسپیس سینٹر، فلوریڈا

فلوریڈا: پاکستان میں پیدا ہونی والی خاتون سائنسدان اب ناسا کے ایک اہم ترین عہدے پر تعینات ہیں اور بعض حالات میں راکٹ اور خلائی سواریاں ان کی اجازت کے بغیر اڑان نہیں بھرسکتیں۔
خاتون سائنسدان حِبا رحمانی پاکستان میں پیدا ہوئیں لیکن اوائل عمری میں وہ کویت منتقل ہوگئیں۔ اس کے بعد عراق جنگ میں انہیں اپنے والدین کے ساتھ اردن اور عراق کے درمیانی سرحد پر کچھ وقت پناہ گزین کے طور پر گزارنا پڑا۔ اس دوران انہیں لق و دق صحرا کی ریت پر سونا پڑا لیکن ریگستان کی اندھیری رات میں ٹمٹماتے ستارے دیکھ کر انہیں فلکیات کا شوق پیدا ہوگیا تاہم وہ دوبارہ پاکستان آگئیں۔

Friday, 3 February 2017

چاغی کے قریب باراتیوں کی 8 گاڑیاں لاپتہ

لاپتہ ہونے والے افراد میں دلہا دلہن سمیت 60 افراد شامل ہیں۔ فوٹو: فائل

نوشکی: شدید بارش کے باعث زاروچہ کے صحرائی علاقے میں باراتیوں کی 8 گاڑیاں لاپتہ ہونے سے دلہا دلہن سمیت 60 کے قریب افراد سے کئیگھنٹوں سے رابطہ نہ ہو سکا۔
 نوشکی کے علاقے قادر آباد کا رہائشی خلیل احمد چاغی سے اپنی دلہن کو لے کر باراتیوں کے ہمراہ واپس آ رہا تھا کہ شدید بارش کے باعث زاروچہ کے صحرائی علاقے میں پھنس کر رہ گئے، باراتیوں سے بھری 8 گاڑیوں میں خواتین اور بچوں سمیت 60 کے قریب افراد سوار ہیں جن کا آخری بار رابطہ گزشتہ روز شام کے وقت ہوا تھا جس کے بعد سے باراتیوں سے کوئی رابطہ نہ ہو سکا۔

Thursday, 2 February 2017

کراچی میں استعمال شدہ موبائل فون خریدنے کیلیے سی پی ایل سی سے تصدیق لازمی قرار

کراچی: 
پولیس نے اسٹریٹ کرائمز کو کنٹرول کرنے کے لیے سی پی ایل سی اور الیکٹرانکس ڈیلرز کے ساتھ مل کر ضابطہ اخلاق تیار کرلیا جس میں دکاندار استعمال شدہ موبائل خریدنے سے پہلے سی پی ایل سی سے تصدیق کریں گے۔
کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی سب سے آسان واردات موبائل فون چھیننا ہے جو باآسانی موبائل مارکیٹ میں فروخت کردیا جاتا ہے لیکن اب شہر میں اسٹریٹ کرائم کی وبا کو قابو کرنے کے لیے پولیس نے سی پی ایل سی اور الیکٹرانکس ڈیلرز سے مل کر ایک ضابطہ اخلاق تیار کیا ہے جس کے تحت اب استعمال شدہ فون لینے سے پہلے ڈیلرز سی پی ایل سی سے موبائل کی تصدیق کے پابند ہوں گے۔
اس حوالے سے سی پی ایل سی نے استعمال شدہ موبائل فونز کی خریدو فروخت کے لیے فارم تیار کرلیا ہے جس کے ذریعے کوئی بھی دکاندار استعمال شدہ موبائل فون خریدنے سے پہلے اسے فروخت کرنے والے شخص کا شناختی کارڈ اور فون نمبر حاصل کرے گا اور سی پی ایل سی سے تصدیق کے بعد ہی وہ موبائل فون اس سے خریدے گا جب کہ اس ضابطہ اخلاق پر عمل نہ کرنے کی صورت میں دکاندار کو گرفتار کرلیا جائے گا۔

حج کوٹے کی تقسیم پر وزارت مذہبی امور اور کمپنیوں میں اختلافات

راچی:  وزارت مذہبی امور اور حج کمپنیوں کے درمیان حج کوٹے کی تقسیم کے سلسلے میں فارمولا طے نہ ہوسکا، حج پالیسی تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے، ن...