آج کل حالیہ حکومت کے پانامہ کرپشن کیس کے چرچے ہر جگہ گونج رہے ہیں۔ آئے روز قوم کو اِس کیس کے حل ہونے کا بے تابی سے انتظار رہتا ہے۔ کچھ وزیراعظم صاحب کو اقتدار کی کرسی سے اُترتا دیکھنا چاہتے ہیں تو کچھ کو اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے حکومتِ وقت پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات کو رد کرکے نیچا دکھانے کا شوق ہے۔ تعجب اِس بات پر نہیں کہ حالیہ حکومت کرپٹ ہے اور اُس پر کیس چل نکلا ہے بلکہ تعجب تو اِس بات پر ہے کہ قوم اتنی تجسس کا شکار کیوں ہے؟ حالانکہ 68 سالہ ملکی تاریخ میں کوئی ایک ایسی حکومت نہیں گزری جو کرپٹ نہ ہو۔
اب یا تو ہم پہلے کرپشن کو کرپشن سمجھتے نہیں تھے یا اگر سمجھتے تھے تو ضمیر اُس وقت جاگا نہیں تھا، یا پھر کرپشن کو سمجھنے کے حوالے سے ہماری صلاحیت کچھ کم ہے۔ اگر ایسی بات ہے تو آئیے تھوڑا ذرا لفظ ’’کرپشن‘‘ کے مطلب پر غور کرتے ہیں کہ آخر یہ کرپشن ہوتی کیا ہے؟
کرپشن اکثر اپنے ذاتی مفاد حاصل کرنے کے لئے کی جاتی ہے، جو اتھارٹی کی پوزیشن میں ایک شخص پر عائد ذمہ داریوں کو بے ایمانی اور غیر اخلاقی صورت میں سر انجام دینے کا نام ہے۔ کرپشن صرف پیسوں یا رشوت سے نہیں ہوتی بلکہ خیانت، بے ایمانی، جھوٹ، دھوکہ و فریب، چوری بھی کرپشن کی ایک شکل ہے۔ اِس صورت میں اگر اپنے اِرد گرد معاشرے کا جائزہ لیا جائے تو پانامہ کیس کے علاوہ بھی قومی سطح پر بے شمار کرپشن مختلف شکلوں میں آئے دن رونما ہوتی نظر آئے گی۔
No comments:
Post a Comment