’اظہر علی میں کپتانی کی اہلیت نہیں،اسے ون ڈے نہیں کھلانا چاہیے، جب تک اظہر ہے ٹیم نہیں جیت سکتی‘‘
ان دنوں ایسے تبصروں کی بھرمار ہے،ہمیں ہر شکست کے بعد قربانی کے بکرے کی تلاش ہوتی ہے، اس بار اظہر علی نشانہ بن رہے ہیں، حسب توقع سرفراز احمد کو کپتان بنانے کی باتیں بھی شروع ہو چکیں، سوچنے کی بات یہ ہے کہ سب جانتے تھے کہ اظہر کی تکنیک ون ڈے سے مطابقت نہیں رکھتی، مجھ جیسے ایک عام سے صحافی نے بھی لکھا تھا کہ ایک مصباح کے جانے پر دوسرے مصباح کو سامنے لایا جا رہا ہے، اس وقت تو چیئرمین ودیگر بورڈ آفیشلز کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی، انھوں نے بڑے فخر سے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اظہرکو ون ڈے اور سرفراز کو ٹی ٹوئنٹی کپتان بنانے کا اعلان کردیا، کیا تب کسی نے انھیں یہ نہیں بتایا تھا کہ سرفراز دونوں ٹیموں کا کپتان بنانے کیلیے آئیڈیل انتخاب ہیں۔
اب سب اچانک اٹھ کر سامنے آ رہے ہیں، درحقیقت اس وقت ون ڈے ٹیم جس حال پر پہنچ چکی اس میں آپ کسی کو بھی کپتان بنا دیں فوری طور پرکچھ بہتر نہیں ہو گا،کبھی کبھی ایک آدھ فتح مل جائے گی مگر مجموعی نتائج منفی ہی رہیں گے،شاید ورلڈکپ کا کوالیفائینگ رائونڈ بھی کھیلنا ہی پڑے لیکن اس سب کا ملبہ بیچارے اظہر علی پر ڈالنا ٹھیک نہیں وہ کون سا پانچ سال سے قیادت کر رہے ہیں، مصباح الحق اور وقار یونس اس تنزلی کے اہم کردار ہیں،یہ درست ہے کہ مصباح نے بطور کپتان ٹیسٹ میں شاندار کھیل پیش کیا مگر ان کی دفاعی اپروچ اور کوچ کی جانب سے ذاتی پسند ناپسند کو ترجیح دیے جانے پر ون ڈے ٹیم کا بیٹرا غرق ہو گیا، یقین مانیں اگر وقار اب بھی قومی سیٹ اپ کا حصہ ہوتے تو سرفراز باہر بیٹھے پانی پلا رہے ہوتے اور کوئی دوسرا وکٹ کیپر ٹیم میں شامل ہوتا، ان دونوں کو سینئرز یونس خان، شاہد آفریدی اور بطور آل رائونڈر محمد حفیظ کا ساتھ بھی حاصل تھا پھر بھی نتائج اچھے نہ رہے،اسی لیے ہم رینکنگ میں آٹھویں، نویں نمبر پر آ گئے۔
اب تو ٹیم میں بیشتر ناتجربہ کار نوجوان کھلاڑی موجود ہیں ، ان سے کیسے توقع کی جا سکتی ہے کہ ہر میچ جتوائیں گے، یہ ایک دیرینہ مرض ہے جس کا باقاعدگی سے علاج کرنا ہوگا،اظہر پر تنقید اس وقت سب سے آسان کام ہے مگر ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ انھیں سارے مسائل ورثے میں ملے ہیں،اگر آپ کپتانی سے ہٹا دیں اور سرفراز کو عہدہ سونپ دیں تو پلیئرز تو یہی ہوں گے ناں،کیسے اچانک ٹیم فتح کی راہ پر گامزن ہو جائے گی؟ سرفراز کے پاس کوئی جادو کی چھڑی تو موجود نہیں ہے،دراصل بورڈ آفیشلز کو غیرملکی دوروں کے سوا کسی چیز میں دلچسپی نہیں،آپ ٹیسٹ کرکٹ میں بھی صرف تین کھلاڑیوں کی بدولت فتح حاصل کر رہے ہیں اور وہ مصباح الحق،یونس خان اور یاسر شاہ ہیں، وہ تو شکر ہے یاسر ڈوپنگ کے مسئلے سے بچ نکلے ورنہ ٹیسٹ میں 20 وکٹیں حاصل کرنا بیحد دشوار ہوتا، دونوں سینئر بیٹسمین ریٹائر ہوئے تو ون ڈے جیسی صورتحال پیش آ سکتی ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ کوئی بورڈ آفیشل اس بارے میں نہیں سوچ رہا ہو گا۔
ان کے ذہن میں یہی ہو گا کہ آگے نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے ٹورز پر بھی جانا ہے، میری چیئرمین شہریارخان اور ایگزیکٹیو کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی سے یہی درخواست ہے کہ غیرملکی دورے چھوڑیں ٹیم پر توجہ دیں، سیریز کے بعد تھنک ٹینک کا اجلاس بلائیں، وسیم اکرم اور دیگر سابق کرکٹرز کو بھی اس میں مدعو کریں اور ون ڈے ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے کا پلان بنائیں،بڑوں کی دیکھا دیکھی بورڈ کے دیگر آفیشلز بھی غیرملکی ٹورز کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، تقریباً سب ہی انگلینڈ کا دورہ کر چکے، اس پر ڈھائی کروڑ سے زائد رقم خرچ ہو چکی اور ایسے میں وہ آئی سی سی کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں کہ ہمارے ملک میں کرکٹ نہیں ہو رہی مدد کرو، اگر آپ کے گھر سوٹ بوٹ میں ملبوس کوئی آدمی آ کر بھیک مانگے تو کیا آپ اس کو کچھ دیں گے؟
اب کچھ بات ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کی کر لیں، پی سی بی کی پلاننگ کا یہ حال ہے کہ ون ڈے ٹیم انگلینڈ میں ہے اور آپ ملک میں ایونٹ کرا رہے ہیں، کوئی بے وقوف ہی اسٹارز کے بغیر میچ دیکھنے اسٹیڈیم آئے گا اور اس کا ثبوت ٹی وی پر مل گیا، تاحال بیشتر میچز میں اسٹیڈیم خالی ہی نظر آیا ہے،سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ ہفتے اور اتوار کو شیڈول میچز ملتوی کر دیے گئے، جواز سیکیورٹی خدشات تھے، ایک طرف کہا جا رہا ہے کہ ہمارا ملک اب محفوظ ہے غیرملکی ٹیمیں آئیں، دوسری طرف ڈومیسٹک ایونٹ کے میچز سیکیورٹی وجوہات پر ملتوی کر دیے گئے اس سے حکام کیا پیغام دے رہے ہیں، پلیئرز، میڈیا اور شائقین کیلیے سہولتوں کا بھی فقدان ہے، ایسا لگتا ہے کہ ٹورنامنٹ کرا کے بورڈ نے محض ایک رسمی کارروائی ہی پوری کی، اس سے آفیشلز کی غیرسنجیدگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
آخر میں قارئین آپ سب کا شکریہ، کل ہی ویب ڈپارٹمنٹ کے وقار بتا رہے تھے کہ گذشتہ کالم کو صرف ’’ایکسپریس نیوز‘‘ کی ویب سائٹ پر دو لاکھ سے زائد افراد نے پڑھا، ایکسپریس کی سائٹ اور ملک بھر کے پرنٹ ایڈیشنز کی تعداد الگ ہے،جہاں آپ لوگوں کی محبت پر خوشی وہیں اس بات پر کچھ فکر بھی ہے کہ کچھ لوگوں کو میری تحریریں بالکل پسند نہیں آتیں، بورڈ کے بعض آفیشلز اکثر نوٹس بھیجنے کی دھمکی دیتے رہتے ہیں، کچھ کاکہنا ہوتا ہے ’’ہماری اوپر تک پہنچ ہے‘‘، احمد شہزاد کو بھی اپنے بارے میں میرا کالم پسند نہیں آیا لیکن انھوں نے بڑی شائستگی کے ساتھ فون پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا، میں نے ان سے یہی کہا تھا کہ میں خود چاہتا ہوں کہ وہ ٹیم میں واپس آئیں لیکن میرٹ پر واپسی مناسب رہے گی،اگر وہ ملک کے لیے اچھا پرفارم کریں گے تو ہر پاکستانی کی طرح مجھے بھی بیحد خوشی ہوگی۔
ورنہ سلیکٹرز تو بادشاہ ہیں ،ایک فون کال آئے ڈھیر ہوجاتے ہیں، جیسے ابھی بیٹسمین حفیظ انجرڈ ہوئے تو فاسٹ بولرعرفان کو انگلینڈ بھیج دیا، اس سے ان کے ویژن کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اگر ٹیم مینجمنٹ نے کہا تھا تو اسے بھی دلائل دے کر قائل تو کیا جا سکتا تھا ناں،ارے ہاں کوئی انضمام صاحب کو ذرا ان کی پریس کانفرنس کی ویڈیو تو دکھا دے جس میں وہ عرفان کی فٹنس پر سوال اٹھا رہے تھے، اب اچانک وہ مکمل فٹ ہو گئے،شاید اسی لیے کہتے ہیں کہ ’’پاکستان کرکٹ کا آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے‘‘۔

No comments:
Post a Comment