آم کے گھنے درخت تلے، بی آر بی نہر کنارے بنائے گئے ٹیوب ویل کے پانی سے قربانی کے بیل کو نہلاتے ہوئے ہماری ملاقات ہوئی نور محمد سے۔ اپنی دنیا میں مگن، ماتھے پر پسینے کے بہتے ہوئے قطرے چمکتی چاندنی کی صورت ان کے چہرے کو جگمگا رہے تھے۔
میں ستمبر 1965ء کی جنگ کی عینی شاہد کی تلاش میں اپنے دوست اسد کے ہمراہ بی آر بی کے کنارے بسے ان کے گاؤں واہگڑی آیا تھا۔ مجھے یہاں کسی بزرگ سے ملنا تھا۔ موٹر بائیک سے اترتے ہی نور محمد پر نظر پڑی۔ سلام کیا، اپنے آنے کا مقصد بیان کیا تو نور محمد فوراً بولے، پتر اے گلاں بمبی کنارے نئیں ہوندیاں (بیٹا! یہ باتیں نہر کنارے نہیں ہو سکتیں)۔ بس پھر ان کی دعوت پر نہر سے کچھ فاصلے پر موجود آم کے درخت کے نیچے چبوترے پر بیٹھ گئے۔ ستمبر 1965ء کا تذکرہ چھڑا تو ایک نگاہ آسمان کی طرف اٹھا کر دیکھا اور گویا ہوئے،
وہ اس وقت 25 برس کے تھے جب ہندوستان نے پاکستان کی سرحدوں پر حملے کی جسارت کی۔ انہیں اچھی طرح یاد ہے کہ آسمان سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے، ہندوستانی ٹینکوں کی آوازیں آج بھی ان کے کانوں میں گونج رہی ہیں۔ لازوال جدوجہد اور جذبہ تھا۔
سچ پوچھیں تو میں نے 65ء کی جنگ کے جتنے بھی واقعات کتابوں میں پڑھے تھے یا بزرگوں کی زبانی سنے تھے ان میں پاک فوج کے جوانوں کے جذبہ ایمانی اور بہادری کے ساتھ ساتھ بی آر بی نہر کی داستانیں بھی تھیں۔ انہی داستانوں کو سننے کے لئے میں اس نہر کے کنارے پہنچا تھا۔ نور محمد جب جنگ کے واقعات بیان کر رہے تھے تو میرا بار بار دھیان بی آر بی کی جانب جاتا، بالاخر میں نے ان سے کہہ بھی ڈالا کہ کچھ تذکرہ اس نہر کا بھی کر دیں اور مجھے اس کے بارے میں بتائیں۔
نور محمد کے مطابق دیپالپور نہر جو کہ حسین والا ہیڈ ورکس فیروز پورسے دریائے ستلج کے دائیں جانب سے نکلتی تھی جس کا ہیڈ تو بھارت میں تھا مگر ساری نہر پاکستان کے اندر سے بہہ رہی تھی۔ جب پاکستان بنا تو بھارت نے دریائے راوی کا پانی مادھو پور ڈیم بنا کر روک لیا۔ 14 مئی 1948ء کو ہندوستان سے معاہدے کے بعد پاکستان نے مرالہ کے قریب سے دریائے چناب میں ایک نہر تعمیر کی جو سدھنوالی گائوں کے قریب دریائے روای میں ملتی ہے۔ یہ نہر دریائے روای کے نیچے سے بہتی ہے اور بیئیاں گاؤں کے قریب دیپالپور نہر میں مل جاتی ہے۔ اس کی تکمیل 1958ء کو ہوئی، اس لنک نہر بی آر بی ڈی کا اصل اور مکمل نام ’بمبانوالا راوی بیدیاں دیپالپور‘ نہر ہے۔ اس بی آر بی نہر سے لاہور کی نہر کو بھی پانی فراہم کیا گیا۔ گویا راوی کے کنارے آباد لاہور شہر کی اس نہر میں راوی کے بجائے چناب کا پانی دوڑتا ہے۔

No comments:
Post a Comment